BBC interviewed Aitzaz Ahsan.

’نو مارچ زور و شور سے منائیں گے‘


بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے پہلے سے اعلان کردہ لانگ مارچ کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نو منتخب پارلیمنٹ کو وقت دینا چاہتے ہیں اور خاص طور پر ان جماعتوں کو جو ججوں کی بحالی کے حق میں ہیں۔
اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ اٹھارہ فروری کے انتخابات سے بھی قبل کیا گیا تھا اور اب پارلیمنٹ کے اجلاس میں تاخیر کی وجہ سے لانگ مارچ کو بھی مؤخر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نو مارچ سن دو ہزارسات کو صدر مشرف نے پہلی مرتبہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جو ان کی نظر میں آج بھی پاکستان کے چیف جسٹس ہیں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو وکلاء پورے ملک میں بڑے جوش و خروش سے منائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ لانگ مارچ سے گریز کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وکلاء تمام ججوں کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور ان ججوں کو بحال کئے جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
لانگ مارچ کا پروگرام بتاتے ہوئے انہوں نے کہا یہ مارچ تین مرحلوں پر مشتمل ہو گا پہلے مرحلے پر سندھ اور بلوچستان کے معزول جج ملتان پہنچیں گے جہاں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وکلاء ان کا استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن قیام کہ بعد یہ جج صاحبان پانچ سو گاڑیوں پر مشتمل وکلاء کے قافلے کے ساتھ لاہور پہنچیں گے اور راستے میں یہ ساہیوال اور اوکاڑہ میں وکلاء سے خطاب کریں گے۔

بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے پہلے سے اعلان کردہ لانگ مارچ کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نو منتخب پارلیمنٹ کو وقت دینا چاہتے ہیں اور خاص طور پر ان جماعتوں کو جو ججوں کی بحالی کے حق میں ہیں۔
اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ اٹھارہ فروری کے انتخابات سے بھی قبل کیا گیا تھا اور اب پارلیمنٹ کے اجلاس میں تاخیر کی وجہ سے لانگ مارچ کو بھی مؤخر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نو مارچ سن دو ہزارسات کو صدر مشرف نے پہلی مرتبہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جو ان کی نظر میں آج بھی پاکستان کے چیف جسٹس ہیں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو وکلاء پورے ملک میں بڑے جوش و خروش سے منائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ لانگ مارچ سے گریز کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وکلاء تمام ججوں کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور ان ججوں کو بحال کئے جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
لانگ مارچ کا پروگرام بتاتے ہوئے انہوں نے کہا یہ مارچ تین مرحلوں پر مشتمل ہو گا پہلے مرحلے پر سندھ اور بلوچستان کے معزول جج ملتان پہنچیں گے جہاں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وکلاء ان کا استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن قیام کہ بعد یہ جج صاحبان پانچ سو گاڑیوں پر مشتمل وکلاء کے قافلے کے ساتھ لاہور پہنچیں گے اور راستے میں یہ ساہیوال اور اوکاڑہ میں وکلاء سے خطاب کریں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ لاہور بار سے خطاب کے بعد اگلے روز پنجاب، سندھ اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ججوں اور ہزاروں وکلاء کا یہ قافلہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پشاور سے پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز کی قیادت میں سرحد سے تعلق رکھنے والے وکلاء اسلام آباد آئیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، ایبٹ آباد، مری، ڈی آئی خان اور ملک کے تمام حصوں سے وکلاء اسلام آباد پہنچیں گے۔
سیاسی جماعتوں میں ججوں کی بحالی پر مختلف آراء کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، اور عوامی نیشنل پارٹی میں اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بھی یہی کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ ملک کے لیے اشد ضرور ہے۔
انہوں نے کہا صدر مشرف نے اعلی عدلیہ کا اور خاص طور پر چیف جسٹس کا حشر کیا ہے اس کے بعد اس ملک میں کوئی جج کیسے آزادانہ فیصلہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار ماہ سے معزول چیف جسٹس کو اپنے بچوں سمیت نظر بند کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افتخار محمد چودھری کے بچے گھر کے لان تک میں نہیں نکل سکتے، سکول نہیں جا سکتے۔
اعتزاز احسن نے اس نظر بندی کو خلاف قانون اور مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پندرہویں صدی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ججوں کو بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ صرف ایک عاقبت نہ اندیش شخص نہیں مانتا اور وہ ہے صدر مشرف۔ اعتزاز نے کہا کہ عوام نے انہوں رد کر دیا ہے اور ان کی جماعت کو صرف چودہ فیصد نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا ’اگر امریکہ اور برطانیہ ان کو رکھنا چاہ رہے ہوں تو ہم تو ان سے کہیں گے کہ خدارا اس ملک کے ساتھ اتنا ظلم نہ کروائیں۔ لوگوں کے مینڈیٹ اور رائے کا احترام کرنے دیں۔فوج اچھے اور قابل ہاتھوں میں چلی گئی ہے اب ایوان صدر بھی اہل ہاتھوں میں جانے دیں۔‘
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ایک شخص کی وجہ سے پاکستان کے حالات بگڑتے جائیں یہ تو بہت بڑا سانحہ ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ کس طرح صدر مشرف کی طرف سے افتخار محمد چودھری کے بچوں کو بھی نظر بند رکھنے کے مجرمانہ فعل کو تسلیم یا نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کس قسم کے اشارے پاکستانی عوام کو دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی آنے والی حکومت کے لیے اس مجرمانہ فعل کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
ججوں کی بحالی کے حوالے سے جاری بحث پر ایک سوال کا جواب دتیے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا یہ استدلال ہے ہے کہ ججوں کو بحال کرنے کے لیے آئینی ترمیم چاہیے وہ یہ ایک طرح یہ تسلیم کرتے ہیں کہ صدر مشرف کا تین نومبر کو ہنگامی حالت نافذ کرکے آئین کو معطل کرنا ایک قانونی قدم تھا۔

link: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/02/080226_aitzaz_interview_fz.shtml
BBC interviewed Aitzaz Ahsan. BBC interviewed Aitzaz Ahsan. Reviewed by Sarah Peracha on 11:09:00 PM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.