Judicial Bus to Hyderabad.

ججز، وکلاء کا قافلہ حیدرآباد پہنچ گیا
ریاض سہیلبی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین کی سربراہی میں سنیچر کو آزمائشی جوڈیشل بس کراچی سے سنیچر کی صبح روانہ ہونے کے بعد اب حیدرآباد پہنچ گئی ہے، جہاں معزول جج صاحبان اور وکلاء رہنما ہائی کورٹ بار کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوں گے۔
سندھ ہائی کورٹ بار سے سنیچر کی صبح وکلاء کا دو بسوں اور کئی کاروں پر مشتمل قافلہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوا تھا جس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اتحاد ’عوامی مزاحمی تحریک‘ کے کارکن اور رہنما بھی شریک تھے۔
شاہراہ فیصل پر معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس فیصل عرب سمیت بارہ جج صاحبان بھی اس قافلے میں شامل ہوگئے۔ یہ تمام جج ایک بس میں سوار تھے، جس کی چاروں طرف سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔
عوامی مزاحمی تحریک کی جانب سے ’مشرف کو چلتا کرو‘ کراچی کے عنوان سے پیمفلٹ تقسیم کیےگئے۔ شاہراہ فیصل سے گزرتے ہوئے لوگوں نے ہاتھ ہلا کر وکلاء سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
بارہ مئی کے پرتشدد واقعے کے بعد یہ پہلی مرتبہ تھا کہ معزول جج صاحبان اور وکلاء رہنما شاہراہ فیصل سےگزرے۔ بارہ مئی کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقعے پر اسی سڑک پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

ججوں اور وکلاء کا یہ قافلہ ملیر بار پہنچا جہاں استقبالیہ دیا گیا اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائےگئے۔
ملیر بار سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے کہا کہ وکلاء نے قانون کی حکمرانی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ ان کو خراج تحسین پیش کرنے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد کسی فرد واحد کی جدوجہد نہیں بلکہ ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد ہے۔ جس میں وکلاء نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
جسٹس صبیح الدین احمد نے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ ’مہذب لوگ ہیں اور کسی قسم کی دہشت گردی نہیں بلکہ ایک پرامن مہذب حکومت چاہتے ہیں، جہاں قانون اور آئین کی بالادستی ہو، قانون اور آئین کی حکومت ہو۔ اس حوالے سے عوام کا فیصلے صاف ظاہر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں مقصد کو حاصل کرنا ہے اور اس کا طریقہ کار قیادت نے طے کرنا ہے۔ فتح آخر حق کی ہوگی، کوئی بھی معاشرہ جہاں حق اور انصاف کی بالادستی نہ ہو کبھی مستحکم بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتا۔

اس قافلے میں شریک سپریم کورٹ بار کے سابق صدر معروف قانون دان منیر اے ملک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں جمہوری قوتوں کی کامیابی ہوئی ہے اور وکلاء کی جدو جہد اپنے منطقی انجام کو پہچنے گی۔
منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ’جمہوری طاقتیں عدلیہ کی آزادی کے حق میں ہیں۔ جب بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایوان اقتدار میں کوئی اور فیصلہ کیا جارہا ہے تو ہم لانگ مارچ کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بیرونی دباؤ بہت ہے، توڑ جوڑ باہر کی طاقتیں کر رہی ہیں مگر وکلاء کو یقین ہے کہ عوام کا جمہوری مینڈیٹ کامیاب ہوگا۔اس مینڈیٹ کی جڑ آزاد عدلیہ ہے اور وہ آزاد عدلیہ تین نومبر سے پہلے کی ہے۔‘
ہائی کورٹ بار کے رہنما رشید رضوی کا کہنا تھا ہے کہ حیدرآباد بار نے جج صاحبان کو دعوت دی تھی، وکلاء ان کے ساتھ یکجہتی کے لیے جا رہے ہیں مگر اصل جوڈیشل بس نو مارچ سے شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بار نے انہیں سندھ ہائی کے حاضر سروس ججوں کے طور پر دعوت دی ہے، وکلاء انہیں ریٹائرڈ جج کے طور پر مخاطب نہیں کرتے۔
رشید رضوی کا کہنا تھا کہ حکمران آنکھیں نہیں کھول رہے اور اگر وہ نہ جاگے تو ڈر یہ ہے کہ اکہتر کی تاریخ نہ دہرائی جائے۔
جسٹس افتخار محمد چودھری معزول کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ سکھر اور حیدرآباد میں بار کو خطاب کرنے کے آئے تھے تو ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے شرکت کرکے حکومت کو پریشان کردیا تھا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس آزمائشی جوڈیشل بس سے وکلاء عوام اور حکومت کا رخ دیکھنا چاہتے ہیں۔
Judicial Bus to Hyderabad. Judicial Bus to Hyderabad. Reviewed by Sarah Peracha on 11:17:00 PM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.