Recent Statement of Justice (r) Tariq Mahmood.

’فوجی آمریت تحریک سے ختم نہیں ہوتی‘


پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظربند سابق صدر جسٹس طارق محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر شپ سے کسی تحریک کے نتیجے میں چھٹکارا حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی قیادت کو موقع فراہم کیا جائے کہ وہ حکومت سازی کے مراحل مکمل کرکے پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے۔
وکلاء تحریک کے رکن اور بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے ای میل کے ذریعے جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک کے نتیجے میں فوجی آمریت کمزور ضرور ہوئی لیکن ایک نئی شکل میں مسلط ہوئی، مثلاً ’ً اس مرتبہ بھی 9 مارچ تک جنرل مشرف کے جانے کے کوئی آثار نہ تھے لیکن 9 مارچ کو وکلاءکو ایک موقع ملا اور تحریک کا آغاز ہوا جس میں میڈیا سول سوسائٹی اور سیاسی پارٹیوں نے بھی بھر پور حصہ لیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں یہ ممکن ہوا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف واپس آئے اور فوجی ڈکٹیٹرکو الیکشن کروانا پڑے۔ چونکہ ڈکٹیٹر شپ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک راستہ بیلٹ بھی تھا اس لیے جہاں مقبول عام سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا وہاں کچھ لوگوں نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور بدقسمتی سے وکلاء کی جیلوں سے باہر بیٹھی ہوئی قیادت نےاس کا ساتھ دیا۔ بہرحال الیکشن ہوئے اور سندھ، پنجاب اور سرحد میں نتائج عوام کی امنگوں کے مطابق آئے، بلوچستان میں چونکہ مقبول عام سیاسی پارٹیوں نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اس لیے وہاں نتائج کچھ مختلف رہے البتہ پیپلز پارٹی وہاں بھی کامیاب رہی اور سرحد میں ایم ایم اے کو وہ ہی ملا جس کی وہ حقدار تھی۔‘

نظربند سابق جج نے مزید کہا کہ اس تناظر میں ان کی درخواست ہے کہ اب آنے والی قیادت کو موقع فراہم کیا جائے کہ وہ حکومت سازی کے مراحل مکمل کرکے پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے۔ ’پاکستان کو فوجی ڈکٹیٹروں نے مسائلستان بنا دیا ہے۔ اس میں ہر قسم کے مسائل شامل ہیں بشمول عدلیہ کی بحالی ۔لیکن ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے انتہائی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ یہ تمام مسائل الہ دین کے چراغ سے حل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس وقت ہمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے آنے والی قیادت کسی دباؤ کا شکار ہو، نادیدہ قوتیں اس سے فائدہ اٹھائیں اور ہم واپس ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں سے ہمیں ایک نئی تحریک کا آغاز کرنا پڑے۔‘
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے اپنی ای میل میں مزید کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا رویہ اختیار کیا جائے جس کے نتیجے میں ادارے مضبوط ہوں۔ ’ہمیں ذاتی مفاد کے لیے کام نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سب نے قربانیاں ملکی مفاد اور اداروں کو استحکام بخشنے کے لیے دی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایک خوشحال پاکستان چاہیے جس میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور ہر کسی کو اس کی ا ہلیت کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع ملیں۔ہمیں اپنی قربانیوں کے صلے میں کسی ذاتی یا وقتی مفاد کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ اس الیکشن کے نتیجے میں پاکستان کے لوگوں نے ہماری قیادت کو ایک سنہری موقع دیا ہے کہ وہ اس ملک کو مشکلات سے نکالے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں صبر سے کام لیتے ہوئے ان سے تعاون بھی کرنا چاہیے۔ آج سے ایک آزمائشی دور شروع ہوا ہے اور ہمیں بردباری اور فراست سے کام لیتے ہوئے اس امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔‘
Recent Statement of Justice (r) Tariq Mahmood. Recent Statement of Justice (r) Tariq Mahmood. Reviewed by Sarah Peracha on 11:12:00 PM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.