Aitzaz in Rawalpindi.


وکلاء کا ملک گیر احتجاج، مظاہرے
شہزاد ملکبی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ملک بھر میں وکلاء نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے سلسلے میں جمعرات کو عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور اس حوالے سے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں بھی نکالیں۔
مظاہرین نے مختلف بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر معزول چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کے حق میں اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔
وکلاء کا سب سے بڑا مظاہرہ جمعرات کو راولپنڈی میں ہوا۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے نظر بندی ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ راولپنڈی بار سے خطاب کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین نومبر کو ملک کے سولہ کروڑ عوام کے ساتھ ساتھ عدلیہ پر شب خون مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر عدلیہ کو قید کر کے ان کے اہلکاروں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔
اعتزاز احسن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مشرف نےتین نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر کے فوجداری جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کے ذمہ دار صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، سابق وزیر اعطم شوکت عزیز ، نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو اور وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا’ وکلاء برادری اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک ان افراد کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا جاتا۔‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر مشرف نے گزشتہ چار سال تک مختلف جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ قاف کی انتخابی مہم چلائی اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی حمایتی جماعت کو ووٹ دیں لیکن عام انتخابات میں عوام نے صدر مشرف کی حمایتی جماعتوں کو مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ ان ججوں کی بحالی کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کا تین نومبر کا اقدام ماورائے آئین ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ ججوں کی بحالی کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے وہ دراصل اس ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں کہ کوئی بھی آرمی چیف ماورائے آئین اقدام کرسکتا ہے۔
اعتزاز احسن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے بچوں کے ساتھ نظر بند ہیں لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
سپریم کورٹ بار کے صدر نے نگراں وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے بچوں سمیت گھر میں نظر بند کیا ہوا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جب وہ نظر بند تھے تو انصار برنی انہیں جیل میں ملنے کے لیے آئے تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے اہلخانہ کے ساتھ گھر میں نظر بند کیا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ (انصار برنی) معزول چیف جسٹس کے لیے کچھ کرسکتے ہیں تو وہ ضرور کریں۔
تقریب سے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اور لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر سردار عصمت اللہ نے بھی خطاب کیا۔
تقریب کے بعداعتزاز احسن لیاقت باغ بھی گئے جہاں پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی چئرپرسن مرحومہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقام پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔
لیاقت باغ کے باہر جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے جہاں پر پیپلز پارٹی کے کارکن اعتزاز احسن سے لپٹ کر دھاڑیں مار کر روتے رہے۔
ادھر پاکستان بار کونسل نے پندرہ مارچ کو لاہور میں وکلاء کا ایک کنونشن طلب کر لیا ہے جس میں عدلیہ کو دو نومبر سنہ دو ہزار سات کی پوزیشن پر لانے کے لیے وکلاء کی جدوجہد کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


link: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/03/08030_aitzaz_pindi_np.shtml
Aitzaz in Rawalpindi. Aitzaz in Rawalpindi. Reviewed by Sarah Peracha on 7:02:00 AM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.